نئی دہلی،29 ؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات کو لے کر بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے آج کانگریس کے خلاف بگل پھونکا ہے۔بی جے پی پر جم کر نشانہ بنا رہی ہیں مایاوتی نے پہلی بار کانگریس صدر راہل گاندھی کو لے کر بیان دیا ہے۔
بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے راہل گاندھی سے پوچھا ہے کہ ان کا’نیوتم آیے گارنٹی ‘کا اعلان کہیں ’غریبی ہٹاؤ‘ نعرے کی طرح جھوٹا تو نہیں ہے۔غور طلب ہے کہ غریبی ہٹاؤ کا نعرہ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے دیا تھا جس کی بدولت پر وہ الیکشن جیت کروزیر اعظم بنی تھیں۔حالانکہ انہوں نے ساتھ میں مودی حکومت کے کالے دھن کی واپسی، 15 لاکھ روپے دینے اور اچھے دن سے بھی جوڑا۔مایاوتی نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی نے ثابت کیا ہے کہ دونوں ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔
دراصل چھتیس گڑھ میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ مرکز میں اقتدار آنے پر وہ غریبوں کو ’کم از کم آمدنی کی ضمانت‘ دینے والی منصوبہ کو نافذگو کریں گے۔ اٹل نگر میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ ہم نے فیصلہ لیا ہے کہ ہندوستان کے ہر غریب شخص کو 2019 کے بعد کانگریس پارٹی والی حکومت نیوتم آمدنی دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ہر غریب شخص کے بینک اکاؤنٹ میں ہندوستان کی حکومت نیوتم آمدنی دینے جا رہی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ ہندوستان میں کوئی بھوکا نہیں رہے گا اور نہ کوئی غریب رہے گا۔
راہل گاندھی نے کہا کہ ہم دو ہندوستان نہیں چاہتے ہیں۔ایک ہندوستان ہوگا اور اس ہندوستان میں ہر غریب شخص کو نیوتم آمدنی دینے کا کام کانگریس پارٹی کی حکومت کرے گی۔یہ کام آج تک دنیا کی کسی بھی حکومت نے نہیں کیا۔یہ کام دنیا میں سب سے پہلے ہندوستان کی 2019 کے بعد کانگریس والی حکومت کرنے جا رہی ہے۔غور طلب ہے کہ اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی کے اتحاد میں کانگریس کو جگہ نہیں دی گئی ہے۔اس کے بعد کانگریس نے بھی ریاست کی 80 سیٹوں پر اکیلے لڑنے کا اعلان کیا ہے۔اس کے لئے مغربی اتر پردیش میں جیوتی رادتیہ سندھیا اور مشرقی اترپردیش کی ذمہ داری پرینکا گاندھی کو دی گئی ہے۔کانگریس کے لیڈروں کا خیال ہے کہ پرینکا کے آنے سے مشرقی اتر پردیش میں کانگریس کو مضبوطی ملے گی۔ وہیں پرینکا کے سیاست میں آنے پر ایس پی صدر اکھلیش یادو نے بھی خیر مقدم کیا ہے۔اکھلیش یادو، راہل گاندھی پر براہ راست حملہ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔اتر پردیش میں دونوں ہی رہنما ساتھ مل کر الیکشن بھی لڑ چکے ہیں۔لیکن لوک سبھا انتخابات کے لئے بات نہیں بن پائی ہے۔